اسلام آباد: یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت ذاتی قرضوں کی حد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ رواں سال ان اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس اقدام کی منظوری دی ہے تاکہ نوجوان کاروباری افراد کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔
یہ اسکیمیں خاص طور پر نوجوانوں کے لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں اور زراعت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کر سکیں۔ حکومت کا یہ اقدام نوجوانوں کی خود مختاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف مالی مدد فراہم کی جائے گی بلکہ انہیں کاروبار کے آغاز کے لیے بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسکیمیں نوجوانوں کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہ اسکیم اس کا ایک حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ قرضوں کی واپسی کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام نوجوانوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی بلکہ ملک کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔ اس طرح کی اسکیمیں نوجوانوں کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں اور انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔