اسلام آباد: استعمال شدہ گاڑیوں کا تحفہ سکیم پر حکومت سے نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) نے 28 اکتوبر کو وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کو ایک خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ اس سکیم کے تحت درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ سہولت تجارتی مقاصد کے لیے غلط استعمال ہو رہی ہے۔
PAMA نے واضح کیا کہ یہ سکیم بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو اپنے عزیز و اقارب کو تحفے میں گاڑیاں دینا چاہتے ہیں، مگر اس کے غلط استعمال کی وجہ سے اصل مقصد متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سکیم کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اس سکیم کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ PAMA نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ اس سکیم کی جانچ پڑتال کرے تاکہ اس کے فوائد کو اصل مستحقین تک پہنچایا جا سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف مقامی کار ساز اداروں کے لیے چیلنج بن گئی ہے بلکہ صارفین کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ PAMA نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اس سکیم کا جائزہ نہ لیا گیا تو یہ مقامی صنعت کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔