واشنگٹن: امریکہ نے خطے میں معاشی دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایرانی آئل ٹینکروں کی غیر قانونی مدد کے الزام میں دو انڈین شہریوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک وسیع بحری نیٹ ورک اور کمپنیوں پر سخت امریکی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں سے بچنے اور غیر قانونی طریقوں سے تیل کی ترسیل کو روکنے کی عالمی مہم کا اہم حصہ ہے۔
غیر قانونی بحری نیٹ ورک اور جعلی دستاویزات کا انکشاف
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ ایک رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ بھارتی افراد ایک ایسا پراسرار نیٹ ورک چلا رہے تھے جو جعلی بحری پرچموں اور جعلی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کے ذریعے ایرانی تیل کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا رہا تھا۔ اس گٹھ جوڑ نے مبینہ طور پر درجنوں ایسے جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جو بحری دھوکہ دہی کے ذریعے بین الاقوامی بحری قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک عالمی سمندری نقل و حمل کی نگرانی سے بچنے کے لیے جدید تکنیکی ہیرا پھیری اور جعلی ملکیتی کاغذات کا سہارا لیتا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن حکومت تہران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں شدید اضافہ کر رہی ہے۔ تازہ ترین امریکی پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ واشنگٹن ان تمام غیر ملکی مالیاتی اور بحری اداروں کے خلاف کارروائی کرے گا جو ایرانی توانائی کے شعبے کی معاونت میں ملوث ہیں۔
امریکی معاشی مہم اور تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ
محکمہ خزانہ کے مطابق اگست کے بعد سے ایران کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اپنی فوجی سرگرمیوں اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایران کے معاشی وسائل کو محدود کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے، جس کا مقصد تہران کو اس کے دفاعی اور بحری منصوبوں کی فنڈنگ سے محروم رکھنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکروں کا یہ خفیہ بیڑا بین الاقوامی پانیوں میں بحری حفاظت کے لیے بھی خطرہ بن رہا تھا کیونکہ اکثر ٹینکر بغیر کسی مستند معائنے یا بین الاقوامی انشورنس کے سفر کر رہے تھے۔ ایسی صورت حال میں بھارتی اداروں اور افراد پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں سمندری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی نہایت اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی منڈیوں اور عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
عالمی اقتصادی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے فیصلے سے نئی دہلی اور واشنگٹن کے تجارتی تعلقات میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ قانونی دائرہ کار سے باہر کام کرنے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو استثنیٰ نہیں دیا جائے گا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی اتحادی ملک سے ہو۔
پابندیوں کی اس نئی لہر کے تحت متاثرہ بھارتی افراد اور ان کی متعلقہ کمپنیوں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ کسی بھی امریکی شہری یا ادارے کو ان کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔ ان امریکی پابندیاں کے بعد عالمی بحری کمپنیوں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل سے دور رہیں۔