اسلام آباد: امریکی سینٹرل کمانڈ کا منصوبہ ایران پر حملے کے لیے موجود ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے۔ یہ منصوبہ ممکنہ طور پر امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد عملی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے تحت خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں۔
<pیہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ جاری رکھا تو یہ حملہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے خطے میں اپنی ملیشیا کی حمایت بھی اس بات کی ایک اور وجہ بن سکتی ہے کہ امریکہ اس طرح کے اقدام پر غور کر رہا ہے۔
<pنیویارک ٹائمز کے مطابق، یہ منصوبہ اس وقت تیار کیا گیا جب امریکی حکومت نے ایران کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے تحت، ایران کے اہم فوجی مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کی شروعات ہو سکتی ہے۔
<pامریکی سینٹرل کمانڈ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر تیار ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کا فیصلہ سیاسی حالات کے مطابق کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایران کی جوابی کارروائیوں کے ممکنہ اثرات بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔