امریکہ کا افغان تارکین وطن

امریکہ کا افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کا منصوبہ

اسلام آباد: امریکہ کا افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت وہ افراد شامل ہیں جو امریکہ میں حراست میں ہیں۔ یہ اقدام انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان تارکین وطن کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق، یہ تارکین وطن افغانستان میں امریکی فوج اور امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے باعث طالبان کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر افغانستان چھوڑا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ان افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایسے افراد کی حفاظت کرنی چاہیے جو طالبان کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی ہے اور ان کے خلاف کام کرنے والے افراد کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت افغان تارکین وطن کی واپسی سے ان کی زندگیوں میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔