ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی اتحاد

ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی اتحاد: طیب اردوان کا ٹرمپ کو فون

اسلام آباد: ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی اتحاد کے تحت، ترک صدر طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا۔ اس گفتگو میں انہوں نے آبنائے ہرمز اور یمن میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

<pاردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مل کر دفاعی حکمت عملی تیار کر رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اتحاد نہ صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے بلکہ اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے لیے بھی اہم ہے۔

اس موقع پر، اردوان نے کہا کہ یمن میں جاری تنازعہ کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں مزید تعاون کریں تاکہ انسانی بحران کو کم کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات میں مزید بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔ اردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔