سٹیچو آف لبرٹی کا خیال

سٹیچو آف لبرٹی کا خیال: ایک تاریخی سفر کی کہانی

اسلام آباد: سٹیچو آف لبرٹی کا خیال کہاں سے آیا؟ یہ سوال آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہے۔ یہ مجسمہ، جو امریکہ کی آزادی کی علامت ہے، دراصل 1865 میں فرانسیسی دانشور ایڈورڈ ڈی بولے کی تجویز پر وجود میں آیا۔ انہوں نے امریکہ کو دوستی اور آزادی کی علامت کے طور پر ایک مجسمہ تحفے میں دینے کی تجویز پیش کی۔

اس مجسمے کا ڈیزائن معروف فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آگست نے تیار کیا، جبکہ اس کے اندرونی ڈھانچے کی تیاری میں ایفل ٹاور کے انجینیئر گستاو ایفل کی کمپنی نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ مجسمہ فرانس میں تیار کیا گیا اور 1885 میں اسے 350 حصوں میں تقسیم کر کے 214 صندوقوں میں رکھ کر بحری جہاز کے ذریعے نیو یارک پہنچایا گیا۔

یہ مجسمہ اپنی تعمیر کے وقت سے ہی دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا رہا۔ 28 اکتوبر 1886 کو اس کی باقاعدہ نقاب کشائی ہوئی، جس نے امریکہ کی آزادی کی علامت کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔ سٹیچو آف لبرٹی آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امید اور آزادی کی علامت ہے۔