اسلام آباد: اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 40 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ 21.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہوا، اور یہ مسلسل تیسرا ہفتہ ہے جب ذخائر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق، پاکستان کے کل مائع غیر ملکی ذخائر میں بھی اسی مدت کے دوران 110.3 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ 26.9 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی معیشت میں یہ بہتری اہم اشارہ ہے۔ بینک کے ذخائر میں یہ اضافہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے لئے ایک مثبت علامت ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ذخائر ملکی کرنسی کی قدر میں استحکام کو بھی فروغ دیتے ہیں، جو کہ کاروباری ماحول کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ، حکومت کی مالیاتی پالیسیوں اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بینک کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور اقدامات نے معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجموعی طور پر، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں یہ اضافہ پاکستان کی معیشت کے لئے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو کہ مستقبل میں مزید ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔