اسلام آباد: سینیٹ کا بل سرکاری اہلکاروں کے لیے سفارتی پاسپورٹس کی پابندی کے لیے مسترد کر دیا گیا۔ یہ بل، جس کا مقصد ریاستی وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین اور سینئر بیوروکریٹس کے لیے سفارتی پاسپورٹس کے اجراء کو محدود کرنا تھا، سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
سینیٹ کی داخلی امور کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سرکاری اہلکاروں کے غیر ضروری فوائد کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کی گئی اور اسے مسترد کر دیا گیا۔
بل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ سفارتی پاسپورٹس کی پابندی سے سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور یہ بین الاقوامی تعلقات میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں مختلف سینیٹرز نے اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس بل کے خلاف دلائل دیے۔
اس بل کی ناکامی کے بعد، سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ وہ اس معاملے پر دوبارہ غور کریں گے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں اس بل کو دوبارہ پیش کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنا چاہیے اور اس پر مزید غور کرنا چاہیے۔