اسلام آباد: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 27 خوارج ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کی گئی ہیں، جس میں مستونگ کے علاقے کڑم ویلی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران یہ کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن کے پہلے فیز میں 15 جبکہ دوسرے میں مزید 12 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔
یہ کارروائیاں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں ایک مقامی کمانڈر بھی شامل ہے، جس کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس آپریشن کی تعریف کی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی مزید کارروائیاں بھی کی جائیں گی تاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
حکومت نے اس آپریشن کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کوششیں جاری رہیں گی۔ بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔