اسلام آباد: اسکول وین کرایے میں اضافہ 40% تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ حالیہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ یہ صورتحال والدین کے لیے مالی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ وین مالکان ماہانہ 2,000 سے 4,000 روپے اضافی طلب کر رہے ہیں، جبکہ اس پر کوئی ریگولیٹری نگرانی نہیں ہے۔ یہ اضافہ ان خاندانوں پر اثر انداز ہوا ہے جو پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
<pاسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکول وین کے مالکان نے یہ اضافہ اس وقت کیا جب پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں والدین کو اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کئی والدین نے بتایا کہ انہیں یہ اضافی رقم ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب والدین نے وین مالکان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کوئی واضح ہدایت یا اقدام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے والدین میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
اسکول وین کرایے میں اس اضافے نے والدین کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے، اور انہیں اپنی مالی منصوبہ بندی میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر حکومت اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی نہیں کرتی تو یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔