اسلام آباد: ری بین میٹا چشمے جلد پاکستان میں پابندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 4 نومبر کو سمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سمارٹ چشموں میں موجود کیمروں کی وجہ سے ان کی درآمد کو محدود کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد عوامی مقامات پر رازداری کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کو ہدایت کی کہ وہ ایسے آلات کے استعمال کے لیے ورک پلیس ریگولیشنز تیار کریں۔
یہ پابندی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سمارٹ ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں اس فیصلے کے بعد سمارٹ چشموں کے استعمال میں کمی آنے کا امکان ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ان آلات کو روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔
حکومت کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے۔ اس پابندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔