پٹرول کی قیمتوں کا نظام

پٹرول کی قیمتوں کا نظام: ریفائنریوں کے 6 ارب ڈالر کے منصوبے کو خطرہ

اسلام آباد: پٹرول کی قیمتوں کا نظام ملک کے ریفائننگ سیکٹر کے 6 ارب ڈالر کے منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پاکستان کی آئل ریفائنریوں نے اتوار کو اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کے تعین کے قواعد میں حالیہ تبدیلی نے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔

ریفائنریوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ریفائنریوں کے لیے مالی طور پر کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ وزارت پیٹرولیم نے جمعے کو ریفائنریوں کو ہدایت دی کہ وہ سات مارچ کے معیار پر مبنی فارمولے کے تحت قیمتوں کا فرق حکومت کے حوالے کریں، جس سے سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صنعتی شعبے کے تخمینوں کے مطابق، اگر یہ تبدیلیاں جاری رہیں تو مقامی طور پر تیار کردہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ریفائنریوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اس معاملے پر غور نہ کیا تو ملک کے ریفائننگ سیکٹر کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف ریفائنریوں کے لیے بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو مستقبل میں پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔