پشتو ادب کی نایاب کتابیں

پشتو ادب کی نایاب کتابیں: پشاور یونیورسٹی کی اہم پیش رفت

پشاور: پشتو ادب کی نایاب کتابیں محفوظ کرنے کے لیے پشاور یونیورسٹی کی پشتو اکیڈمی نے اپنی لائبریری میں موجود قدیم کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وقت کے ساتھ یہ قیمتی کتابیں ضائع ہونے سے بچ سکیں اور نئی نسل کو ان تک رسائی حاصل ہو سکے۔

پشتو اکیڈمی کی لائبریری، جو 1955 میں قائم ہوئی، میں تقریباً 35 ہزار کتابیں موجود ہیں، جن میں سے 10 سے 12 ہزار کتابیں پشتو زبان میں ہیں۔ ان میں کچھ کتابیں انیسویں صدی میں شائع ہوئی تھیں، جو کہ پشتو ادب کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخندہ حیات کے مطابق، اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں نایاب کتابوں کو سکین کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد، انہیں ایک ویب سائٹ پر دستیاب کرنے کا ارادہ ہے تاکہ بیرون ملک مقیم محققین اور نئی نسل بھی پشتو ادب اور تاریخ تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف پشتو ادب کی حفاظت ہوگی بلکہ اس کی ترویج بھی ممکن ہو سکے گی۔

یہ ڈیجیٹائزیشن کا عمل نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پشتو زبان و ادب کی قیمتی ورثہ کو محفوظ کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام عالمی سطح پر پشتو ادب کی شناخت کو بھی فروغ دے گا، جس سے محققین اور ادبی حلقوں میں اس کی اہمیت بڑھ جائے گی۔