بیرون ملک روزگار

بیرون ملک روزگار: پاکستانی ہنر مند افراد کی رجسٹریشن میں کمی

اسلام آباد: پاکستان سے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کی رجسٹریشن میں رواں برس نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے نو مہینوں کے دوران کل 4 لاکھ 27 ہزار 435 پاکستانی تارکین وطن کو بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ کیا گیا ہے، جو کہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کم ہے۔

سرکاری تجزئے کے مطابق عالمی وبا کے بعد کے سالوں یعنی 2022 اور 2023 میں پاکستانی افراد کی بیرون ملک جانے کی شرح میں تاریخی اضافہ ہوا تھا، تاہم اب بیرون ملک روزگار کی تلاش میں بیرون ملک سفر کرنے والوں کی سالانہ رفتار واپس گزشتہ دہائی کی اوسط سطح پر آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیرون ملک ملازمتوں کی مارکیٹ اب مستحکم لیکن سست رفتار ہو رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی ترجیحات میں تبدیلی

بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد اب بھی مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا رخ کر رہی ہے۔ تاہم ان ممالک میں نئے قوانین اور ویزا پالیسیوں میں سختی کی وجہ سے رجسٹریشن کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک میں ہنر مند افراد کی طلب تو برقرار ہے، لیکن غیر ہنر مند اور عام مزدوروں کے لیے ویزا کا حصول نسبتاً مشکل ہو چکا ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے تارکین وطن کی بھیجی گئی ترسیلات زر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات موصول ہوتی ہیں جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں۔ تارکین وطن کی رجسٹریشن میں کمی سے آئندہ مہینوں میں بیرونی ترسیلات پر اثر پڑنے کا امکان ہے، جس پر معاشی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہنر مند اور پروفیشنلز کی روانگی کی صورتحال

اگرچہ بیرون ملک روزگار کے مجموعی اعداد و شمار میں کمی آئی ہے، لیکن آئی ٹی، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی بیرونی ممالک میں منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت پاکستان نے اب غیر ہنر مند افرادی قوت کے بجائے زیادہ سے زیادہ فنی تعلیم اور جدید مہارت رکھنے والے ہنر مندوں کو بیرون ملک بھیجنے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور دیگر اداروں کے ذریعے جوانوں کو جدید بین الاقوامی معیار کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں بہتر ملازمتیں حاصل کر سکیں۔ حکام کو امید ہے کہ سال کے آخری سہ ماہی میں بیرون ملک روزگار کے عمل میں دوبارہ بہتری آئے گی اور پاکستانی ہنر مند عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے رہیں گے۔