سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے کی جانے والی شدید تنقید کا سخت اور کرارا جواب دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ باراک اوباما نے اپنے دورِ حکومت کے دوران ایران کو اربوں ڈالرز دیے اور اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے آسان اور ہموار راہ فراہم کی۔ امریکی سیاست میں اس اہم ترین پیش رفت کے بعد ایک نیا سیاسی طوفان برپا ہو گیا ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان زبانی جنگ انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔امریکی صدارتی دوڑ اور انتخاباتی مہم کے دوران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ٹرمپ نے نجی و عوامی اجتماعات میں اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو شدید ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ 2015 میں طے پانے والا تاریخی ایرانی ایٹمی معاہدہ امریکی تاریخ کا بدترین اور انتہائی کمزور ترین معاہدہ تھا جس سے صرف اور صرف ایران کو معاشی، سفارتی اور تکنیکی فائدے حاصل ہوئے جبکہ امریکہ کو سخت نقصان اٹھانا پڑا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں یہ واضح موقف اختیار کیا کہ اوباما انتظامیہ کی معذرت ترانہ پالیسیوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں شدید عدم استحکام پیدا ہوا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کیا جاتا تو ایران بہت پہلے ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، لیکن انہوں نے صدر بنتے ہی اس غیر متوازن معاہدے سے نکلنے کا جرات مندانہ اور تاریخی فیصلہ کیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اصل میں اوباما کی ان حالیہ تقاریر اور بیانات کا ردعمل ہے جن میں انہوں نے ٹرمپ کی شخصیت، قیادت اور عوامی پالیسیوں پر شدید نقطہ چینی کی تھی۔ اوباما نے اپنے عام خطابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی جمہوریت، جمہوری اقدار اور بین الاقوامی روابط کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔ اس تنقید کے جواب میں ٹرمپ نے سابق صدر کے دورِ اقتدار کی خامیوں اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ سے متعلق فیصلوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اوباما کے فیصلے محض خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں تھے بلکہ ان کی وجہ سے امریکی معیشت اور قومی سلامتی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کو ملنے والے اربوں ڈالرز کو خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی قیادت میں امریکہ نے ہمیشہ اپنے دفاع اور خودمختاری کو مقدم رکھا جبکہ سابق انتظامیہ نے مخالفین کے سامنے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیا۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اور اوباما کے درمیان یہ زبانی تصادم آنے والے امریکی انتخابات میں انتہائی اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ امریکی عوام اب ان دونوں مختلف سیاسی نظریات کی کارکردگی اور عالمی سطح پر ان کے فیصلوں کے اثرات کا باریک بینی سے موازنہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے حامی ان کے سخت اور قومی مفاد پر مبنی موقف کو سراہ رہے ہیں جبکہ اوباما کے پیروکار ان الزامات کو بلاجواز اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔اس مجموعی صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی حالات، سفارتی تعلقات اور امریکہ کی قومی سلامتی ایک بار پھر انتخابات کا مرکزی موضوع بن گئے ہیں۔ دنیا بھر کے سفارت کار اور مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اس سیاسی معرکے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا اثر نہ صرف امریکہ کی اندرونی سیاست پر پڑے گا بلکہ عالمی سطح پر امریکی سفارت کاری اور ایران کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کا بھی تعین کرے گا۔