اسلام آباد: موبائل فون ٹیکس سینیٹ میں PTA اور FBR کے درمیان اختلافات کی وجہ سے شدید تنقید کا شکار ہیں۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک حیران کن اعداد و شمار پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے 93% موبائل فونز غیر قانونی ہیں، جو کہ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے درمیان معلومات کا تبادلہ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اس نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ موبائل فونز کی قانونی حیثیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور اس کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ غیر قانونی موبائل فونز کے استعمال سے بچ سکیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے PTA اور FBR کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی دونوں اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کام کرے گی تاکہ ٹیکس وصولی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔