مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم

اسلام آباد: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، یہ بات پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز کہی۔ انہوں نے اس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

اسحاق ڈار نے یہ بیان اس وقت دیا جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، جو کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا ہے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم اقدام ہے۔

یہ معاہدہ رواں سال اگست میں دستخط کیا گیا تھا، جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد، خطے میں صورتحال مزید بگڑ گئی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس تناظر میں، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاہدے کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف تین ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔

پاکستان کی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کے قیام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس معاہدے کے ذریعے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا، جو کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔