اسلام آباد: مکہ دفاعی معاہدے کے ارکان کی ایرانی حکام سے ملاقات کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس سعودی وزیرِ دفاع کی تہران آمد کے ساتھ ہوا، جو حوثیوں کے حملوں کے باعث ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے سائے میں منعقد ہوا۔
<pیہ ملاقات اس وقت ہوئی جب سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا تھا۔ سعودی وزیرِ دفاع کی ایران آمد نے اس بات کی عکاسی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ اجلاس اس تناظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
<pایران کے حکام نے اس ملاقات کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں یہ اقدام ایک نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
<pاس ملاقات کے نتیجے میں ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں میں پیش رفت ہو سکتی ہے، جو کہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقات عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں مختلف ممالک اس پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔