اسلام آباد: ایمباپے کی معافی کے باوجود چین میں تنقید جاری ہے۔ فرانسیسی فٹ بالر کیلیان ایمباپے نے ماؤ زے تنگ سے متعلق اپنے متنازعہ تبصروں پر معافی مانگی، لیکن اس کے باوجود چینی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف غصہ کم نہیں ہوا۔ ان کے اس بیان کے نتیجے میں وہ چین کی بڑی مارکیٹ میں کئی اہم تجارتی معاہدوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
چین کے سابق رہنما کی وفات کے 50 سال بعد بھی ماؤ کا مذاق اڑانا ایک حساس موضوع ہے۔ کئی چینی برانڈز نے ایمباپے کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیے ہیں، جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے سپین کی فٹ بال لیگ کی نشریات بھی منسوخ کر دی ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چینی حکومت اپنے تاریخی رہنماؤں کی توہین کو برداشت نہیں کرتی۔
ایمباپے نے منگل کو اپنے اس بیان پر معافی مانگی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں سب سے مضحکہ خیز میم وہ تھی جس میں ان کے چہرے کو کسی چینی آمر کے چہرے پر لگا دیا گیا تھا۔ یہ اشارہ واضح طور پر ماؤ زے تنگ کی جانب تھا، جس نے چینی عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔
ایمباپے کا یہ مذاق چینی حکومت کے سخت کنٹرول والے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا باعث بنا۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ چین میں ان کی مقبولیت میں بھی کمی واقع ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی شخصیات کو چین کی ثقافتی حساسیت کا خیال رکھنا چاہیے۔