ایران امریکا معاہدہ

ایران امریکا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، امریکی سفیر کا بڑا دعویٰ

اسلام آباد: عالمی سفارتی محاذ پر ایک انتہائی اہم پیش رفت کے تحت ایران امریکا معاہدہ طے پانے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری عسکری اور سیاسی کشیدگی میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ انقرہ میں تعینات امریکی سفیر ٹام بیرک نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے تمام اہم سفارتی نمائندے تہران کے ساتھ عسکری تحرک اور خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق ہو رہے ہیں۔

امریکی سفیر ٹام بیرک کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سفارتی سطح پر انتہائی خفیہ اور اہم مذاکرات انجام پائے ہیں جن میں فریقین نے ایک دوسرے کے تحفظات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مجوزہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی سیکیورٹی پالیسیوں کو نیا موڑ دے گا بلکہ اس سے پورا مشرق وسطیٰ بھی ایک سنگین عسکری ٹکراؤ سے محفوظ رہے گا۔

ایران امریکا معاہدہ اور سفارتی پیش رفت

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات مختلف بین الاقوامی ثالثوں کی مدد سے آگے بڑھائے گئے ہیں جن میں ترکیہ نے ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت خطے میں مستقل اور پائیدار امن کی خواہش مند ہے اور اگر موجودہ بات چیت اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو جلد ہی اس معاہدے کے حتمی نکات کو پبلک کر دیا جائے گا۔ اس سے دونوں طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کے خدشات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس سفارتی سمجھوتے میں بنیادی توجہ خطے میں عسکری نقل و حرکت کو محدود کرنے اور سمندری راہداریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھی گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ کشیدگی میں کمی سے خطے میں موجود امریکی اہلکاروں اور اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا جبکہ ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کا میکانزم بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔

عسکری کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران امریکا معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بالخصوص تیل کی قیمتوں میں بھی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی مسلسل خطرات کی زد میں رہی ہے، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر کی معیشت پر پڑ رہا تھا۔

امریکی سفیر نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ مذاکراتی عمل انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور دونوں جانب سے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے اختلافات اور عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنے میں وقت لگے گا، تاہم موجودہ اقدامات ایک نئے اور مثبت دور کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو خطے کے تمام ممالک کے فائدے میں ہو گا۔

عالمی برادری کا ردعمل اور مستقبل کی سمت

بین الاقوامی ماہرین سیکیورٹی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کسی ٹھوس عسکری معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو اس سے شام، یمن اور دیگر علاقائی تنازعات کے حل میں بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق تہران کی جانب سے بھی سفارتی حل کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔

حتمی پیش رفت کی صورت میں عالمی طاقتیں اس قدم کو بین الاقوامی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جو مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی ایک نئی سحر کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔