ایران پر حملہ کے معاملے پر وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر کے درمیان اختلافات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو نے فوجی سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابات سے قبل ایران پر فوری حملہ کریں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کا موقف ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں اور اس خطرے کا فوری جواب دینا ضروری ہے۔ دوسری جانب، فوجی سربراہ ایال زمیر نے اس حملے کی مخالفت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس وقت فوجی کارروائی کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔اس اختلاف نے اسرائیلی حکومت کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں کچھ وزراء نیتن یاہو کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے خلاف ہیں۔ اس صورتحال میں، اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اپنے مطالبات پر اصرار کرتے رہے تو اس سے اسرائیل کی سیکیورٹی حکمت عملی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی بھی پیدا ہو سکتی ہے، جو کہ خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔