اسلام آباد:
حوثی ملیشیا کے میزائل حملے نے سعودی عرب کو 12 گھنٹے میں 11 بار نشانہ بنایا۔ یہ حملے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب کیے گئے، جنہیں سعودی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں ایک کروز میزائل اور دو ڈرون بھی شامل تھے۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے یہ حملے اس وقت کیے گئے جب سعودی عرب نے یمن میں جاری جنگ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ سعودی عرب کے دفاعی نظام نے ان حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثی ملیشیا اب بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مصروف ہے، حالانکہ سعودی عرب نے ان کے خلاف متعدد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال ایک خطرناک پیش رفت ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن کی جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔