اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوری 2025ء سے جون 2026ء کے دوران 3,900 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ ہیں، جو اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں۔
<pیہ تشخیص خاص طور پر ان بچوں کے لیے خطرناک ہے جو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایچ آئی وی کی بڑھتی ہوئی شرح نے حکومت اور صحت کے اداروں کے لیے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کی تشخیص کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی کئی وجوہات ہیں، جن میں آگاہی کی کمی، صحت کی سہولیات تک رسائی کی مشکلات، اور معاشرتی مسائل شامل ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر، حکومت کو چاہیے کہ وہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں عوامی آگاہی مہمات اور صحت کی سہولیات کی بہتری شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔