اسلام آباد: حکومت کی 380 ارب روپے کی گرانٹس کی منظوری نے پانی اور دفاعی منصوبوں کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے یہ گرانٹس منظور کی ہیں، جن میں 275 ارب روپے پانچ بڑے پانی کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تقریباً 84 ارب روپے دفاعی ضروریات کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ملک میں پانی کی قلت اور دفاعی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پانی کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف زراعت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں کو بھی بہتر پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ، دفاعی ضروریات کے لیے مختص کردہ رقم ملک کی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کمیٹی نے پنجاب میں واقع دو کھاد کی فیکٹریوں، فاطمہ اور ایگری ٹیک، کے لیے گیس کی فراہمی کو 31 دسمبر تک جاری رکھنے کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام زراعت کے شعبے میں پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب کھاد کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ گرانٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور قومی سلامتی کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ اقدامات ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔