اسلام آباد: سونے اور چاندی کی قیمتیں آج مارکیٹ میں بڑھ گئیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی-ایرانی مذاکرات میں تعطل ہے۔ حالیہ دنوں میں، صدر ٹرمپ نے تہران سے تاریخی تنازعات کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے، جس نے جاری امن مذاکرات کو مؤثر طور پر منجمد کر دیا ہے۔ اس اچانک تعطل نے ہارموز کی خلیج کو دوبارہ کھولنے کی فوری امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو نئی مہنگائی کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کی بے چینی نے سونے اور چاندی کی خریداری میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر ان حالات میں، سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2000 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ چاندی کی قیمت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی ضروریات کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
اس کے علاوہ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس لیے، سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر غور کریں اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لیں۔