اسلام آباد: اسرائیلی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کا الزام سامنے آیا ہے، جس کی تحقیقات میں خفیہ ایجنسی موساد بھی شامل ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ اسرائیل کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ ہے، جہاں انتخابات کے نتائج پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ موساد کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ معاملہ کتنا سنجیدہ ہے اور اس کے اثرات اسرائیل کی داخلی سیاست پر کیا ہو سکتے ہیں۔
<pاسرائیل کے حالیہ انتخابات میں، مختلف ذرائع سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی عناصر نے انتخابات کے عمل میں مداخلت کی ہے۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب کچھ امیدواروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر یہ کہا کہ ان کی کامیابی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ موساد نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آیا واقعی کوئی غیر ملکی مداخلت ہوئی ہے یا یہ صرف سیاسی ہلچل کا حصہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، موساد کی تحقیقات میں مختلف ممالک کے خفیہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر مداخلت ثابت ہو گئی تو اس کے نتائج نہ صرف انتخابات پر بلکہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے اسرائیلی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ موساد کی تحقیقات کے نتائج کیا ہوں گے۔
اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے، اسرائیلی حکومت نے عوامی سطح پر اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ اسرائیل کی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ موساد کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے، جو کہ آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔