پہلے مسلمان امریکی سینیٹر

پہلے مسلمان امریکی سینیٹر عبدال السید کی شاندار کامیابی

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں تاریخ رقم ہو گئی ہے جہاں عبدال السید نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخ کے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ریاست مشی گن کے اس انتہائی اہم اور حساس معرکے میں عبدال السید نے اپنے مضبوط مخالف ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو نمایا ں مارجن سے شکست دے کر فتح اپنے نام کی ہے۔ اس تاریخی کامیابی پر امریکہ بھر کی مسلم کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسے امریکی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابی نتائج کا باضابطہ اعلان ہونے کے بعد اپنے حامیوں سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے نو منتخب سینیٹر عبدال السید کا کہنا تھا کہ ہم نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے یہ ناممکن کام ممکن کر دکھایا ہے۔ انہوں نے خوشی اور مسرت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام عبدالرحمن محمد السید ہے اور میں آپ کے سینیٹر الیکٹ کے طور پر یہاں کھڑے ہو کر انتہائی فخر محسوس کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف میری ذات کی کامیابی نہیں بلکہ تمام اقلیتوں اور انصاف پسند امریکیوں کی جیت ہے۔

عبدال السید نے اپنی گفتگو کے دوران ایک دلچھسپ اور ایمانی نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ہم جب بھی کامیابی کی بات کرتے تھے تو ہمیشہ انشاء اللہ کہتے تھے ، لیکن آج کامیابی کے اس عظیم موقع پر ہم انشاء اللہ کی جگہ الحمد اللہ کہیں گے۔ ان کے اس جملے پر تقریب میں موجود ہزاروں حامیوں نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے اور تالیاں بجا کر ان کی شاندار کامیابی کو سراہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی یہ فتح مشی گن کی سیاست میں ایک بڑے اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

امریکہ میں ہونے والے ان وسط مدتی انتخابات میں محض ایک ہی جگہ سرپرائز دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ متعدد دیگر حلقوں میں بھی مسلمان امیدواروں نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عبدال السید کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار آدم حموی نے بھی نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ آدم حموی نے ریپبلکن پارٹی کے سخت حریف امیدوار گریگ میلے کو واضح اکثریت سے شکست دی اور ایوان نمائندگان میں اپنی نشست پکی کی۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پہلے مسلمان امریکی سینیٹر کے طور پر عبدال السید کا انتخاب امریکہ کی قانون سازی اور پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ماضی میں بھی عبدال السید صحت عامہ اور سماجی انصاف کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ، جس کی وجہ سے انہیں عوامی سطح پر بے حد مقبولیت حاصل تھی۔ ان کی کامیابی نے امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اعلیٰ ترین ایوانوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔

امریکی سیاست میں مسلمان برادری کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو عالمی سطح پر بھی انتہائی باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے مسلمان امریکی سینیٹر کا انتخاب امریکی جمہوریت میں تنوع اور شمولیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف امریکہ کے اندر مسلمان برادری کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کا مثبت امیج اجاگر ہوگا۔ عبدال السید کی اس فتح کو امریکی قانون سازی کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق کی مؤثر ترجمانی ہو سکے گی۔