اسلام آباد: وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی برطرفی کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کئی لوگ انہیں پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ یہ دباؤ اس وقت بڑھا جب ہیگسیتھ کی پالیسیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔
ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہیگسیتھ کی کارکردگی ان کی انتظامیہ کے مقاصد کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ ہیگسیتھ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں، مگر ان کی بعض فیصلوں نے انہیں پریشان کیا ہے۔
یہ دباؤ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی حکام نے ہیگسیتھ کی قیادت میں بعض اہم فوجی آپریشنز کی ناکامی کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے علاوہ، ہیگسیتھ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ کے قریبی مشیروں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کریں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ ہیگسیتھ کو برطرف کرنے کا فیصلہ کریں گے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہوگا، جو کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔