اسلام آباد: سائبر کرائم مالی فراڈ کے 60 فیصد واقعات کا انکشاف سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان میں بڑھتے ہوئے مالیاتی دھوکے بازی کے خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ ان معاملات میں متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
<pکمیٹی کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کے اعتماد کو متاثر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں مالیاتی نظام میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
مزید برآں، کمیٹی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہی مہمات کا آغاز کرے تاکہ عوام کو ان خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ مالی فراڈ کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی تاکہ سائبر کرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔