اسلام آباد: محمد بن سلمان پر تنقید کی جا رہی ہے کہ ویژن 2030 پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود مملکت کی حفاظت میں ناکامی کا سامنا ہے۔ سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے تسلسل نے اپوزیشن شخصیات کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ محمد بن سلمان اپنے دورِ اقتدار کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں۔
<pسعودی اپوزیشن کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ اس بحران کی ایک بڑی وجہ امریکی حمایت میں کمی اور دیگر اتحادیوں کی محدود پشت پناہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال سعودی عرب کی داخلی اور خارجی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
سعودی عرب کی حکومت نے ویژن 2030 کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جس میں معیشت کی تنوع، سیاحت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، ان منصوبوں کے باوجود، ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری نہیں آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب نے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے، لیکن اس کے باوجود، مملکت کو درپیش خطرات میں کمی نہیں آئی۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن کے رہنماوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
اس تنقید کے باوجود، محمد بن سلمان نے اپنے ویژن 2030 کے منصوبوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مملکت کی ترقی اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ تاہم، اپوزیشن کی جانب سے ان کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور عوام کی جانب سے بھی ان کی کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔