اسلام آباد: بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے منگل کی شب جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ فیصلہ تنظیم کے آئین کے مطابق سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے تحت کیا گیا ہے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ بشیر زیب کی قیادت میں تنظیم نے کئی اہم کارروائیاں کیں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تنظیم کے اندرونی اختلافات اور حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
بشیر زیب کی جگہ نئے سربراہ کی تقرری کا عمل جلد متوقع ہے، جس کے بارے میں تنظیم نے ابھی تک کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ تبدیلی بی ایل اے کے مستقبل کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب کہ تنظیم کو بین الاقوامی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اور اس تناظر میں بی ایل اے کی قیادت میں تبدیلی کو ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔