اسلام آباد: بائننس ہیکنگ واقعہ میں 6 بلین ڈالر کی چوری کی حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ہیکرز نے جعلی ملازمت کے انٹرویوز، متاثرہ سافٹ ویئر، اور ایک داخلی AI ٹول کا استعمال کرتے ہوئے یہ کارروائی کی۔ یہ واقعہ نہ صرف بائننس بلکہ پوری کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن گیا ہے۔
بائننس کے مطابق، ہیکرز نے اپنے ہدف کو متاثر کرنے کے لیے جدید تکنیکوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے جعلی ملازمت کے انٹرویوز کے ذریعے اپنے ہدف کے ملازمین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ متاثرہ سافٹ ویئر کو اپنے سسٹمز میں انسٹال کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ سافٹ ویئر ہیکرز کو اندرونی معلومات تک رسائی فراہم کرتا تھا، جس کے ذریعے انہوں نے بڑی مقدار میں فنڈز چوری کیے۔
اس کے علاوہ، بائننس نے یہ بھی بتایا کہ ہیکرز نے ایک داخلی AI ٹول کا استعمال کیا، جس نے انہیں ہدف کی سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے اور ان کے سسٹمز میں داخل ہونے کے لیے بہترین وقت کا انتخاب کرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ ٹول ہیکرز کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہوا، جس نے انہیں اپنی کارروائیوں میں کامیابی دلائی۔
بائننس نے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط کرنے کا عہد کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کریں۔ یہ واقعہ کرپٹو مارکیٹ میں سیکیورٹی کے مسائل کی شدت کو اجاگر کرتا ہے اور صارفین کو اپنی معلومات کی حفاظت کے لیے مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔