بائننس کی رقوم کی واپسی

بائننس کی رقوم کی واپسی معمول پر آ گئی، شمالی کوریا نے الزامات مسترد کر دیے

اسلام آباد: بائننس کی رقوم کی واپسی معمول پر آ گئی ہے۔ اس دوران، شمالی کوریا نے امریکہ کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جو اسے بائننس کے ریکارڈ 6.3 بلین ڈالر کے کرپٹو ہیک سے جوڑتے ہیں۔ پیر تک، صارفین نے خالص 4.72 بلین ڈالر کی رقم نکالی۔ ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران، پلیٹ فارم نے نکاسی میں زبردست اضافہ دیکھا۔ اس سے پہلے، کمپنی نے دو دن سے زیادہ کے لیے نکاسی کو منجمد کر دیا تھا۔

بائننس کی جانب سے رقوم کی واپسی میں یہ معمولی تبدیلی اس وقت آئی ہے جب شمالی کوریا نے ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہیک شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا، جس پر شمالی کوریا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہیکنگ میں ملوث نہیں ہیں۔

بائننس کے صارفین کی جانب سے نکاسی کی یہ بڑی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ بائننس نے حال ہی میں ہیکنگ کے واقعے کے بعد اپنی سیکیورٹی میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات ممکنہ طور پر طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، بائننس کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اعتماد کی بحالی کے لیے شفافیت اور سیکیورٹی کے معاملات پر توجہ دینا ضروری ہے۔