اسلام آباد: اسرائیل کے لیے امداد اس سال رک جائے گی، یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کہی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس سال کے اختتام پر اسرائیل کو مزید امداد فراہم نہیں کی جائے گی، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل کے لیے امداد کی روک تھام کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی حالات کافی پیچیدہ ہیں۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ اب اپنے مالی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، اس امداد کی روک تھام سے امریکہ کی داخلی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ہو سکتا ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد اسرائیل کی حکومت کو اپنی مالی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔