اسلام آباد: عدیم ہاشمی شاعر کی تخلیقات، خاص طور پر ان کی مشہور غزلیں، پاکستانی ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی ایک غزل، جسے معروف گلوکار غلام علی نے گایا، بہت مقبول ہوئی۔ اس غزل کا مطلع ہے: ‘فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا’۔ یہ اشعار نہ صرف دل کو چھو لیتے ہیں بلکہ انسانی جذبات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
عدیم ہاشمی کی شاعری میں عشق، جدائی اور انسانی تجربات کی گہرائی نظر آتی ہے۔ ان کی غزلیں مختلف گلوکاروں نے گائی ہیں، جن میں غلام علی کے علاوہ دیگر معروف فنکار بھی شامل ہیں۔ ان کی تخلیقات نے نہ صرف موسیقی کی دنیا میں بلکہ ادبی حلقوں میں بھی خاصی پذیرائی حاصل کی ہے۔
ہاشمی کی شاعری کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے الفاظ کے ذریعے قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں موجود جذبات کی شدت اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی غزلیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
عدیم ہاشمی کی تخلیقات نے نہ صرف اردو ادب کو مالا مال کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے ایک نئی نسل کو متاثر بھی کیا ہے۔ ان کی شاعری کا سفر جاری ہے اور ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔