اسلام آباد: نیتن یاہو کی حکومت میں آئزن کوٹ کی شمولیت کی بڑی آفر نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سابق اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ نے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو کو اپنی قیادت میں بننے والی حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ یہ پیشکش اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے آئزن کوٹ کو اگلی حکومت بنانے کی دعوت کے بعد سامنے آئی ہے۔
اس پیشکش کے بعد اسرائیلی سیاسی منظر نامے میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنایا ہوا ہے، مگر اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ اس پیشکش کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ اس وقت اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت ہے، جس کی وجہ سے آئزن کوٹ کی یہ آفر اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ایک اہم سیاسی اقدام ہے، جو کہ آئزن کوٹ کی سیاسی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ اگر آئزن کوٹ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اسرائیلی سیاست میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دور رس ہوں گے۔
اس صورتحال میں عوامی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عوام اس پیشکش پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ آئزن کوٹ کی شمولیت سے نیتن یاہو کی حکومت کی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے، یا یہ ایک نئی سیاسی چال ثابت ہو سکتی ہے۔