تہران: آبنائے ہرمز میں دھماکے کے نتیجے میں تین تیل بردار جہاز متاثر ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکوں کے بعد جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تیل کی ترسیل کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، دھماکے کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے، لیکن یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، جہاں ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ دھماکے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے راستے میں خطرات بڑھ رہے ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ایران کی حکومت نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے گی۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ واقعہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دھماکے کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے ساتھ ہونے والے اس واقعے نے ایک بار پھر اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر، یہ دھماکے ایک نئے بحران کی علامت ہو سکتے ہیں۔