اسلام آباد: ایرانی سرحدوں سے اسلحے کی ترسیل روکنے کیلئے امریکا نے نئی ٹاسک فورس بنائی ہے۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں کی ترسیل اور پابندیوں کی زد میں آنے والے دیگر سامان کی روک تھام کے لئے کیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے اس ٹاسک فورس کو تشکیل دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، یہ نئی ٹاسک فورس ایران کی سرحدوں پر موجود خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد نہ صرف ایران سے ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنانا ہے۔
امریکا کی یہ نئی حکمت عملی اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے مختلف ممالک کو ہتھیار فراہم کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔ اس ٹاسک فورس کی تشکیل سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل میں کمی آئے گی اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹاسک فورس جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی مدد سے کام کرے گی تاکہ ایران کی سرحدوں سے اسلحے کی ترسیل کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف امریکا بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے۔