بالغ افراد میں آٹزم

بالغ افراد میں آٹزم کی تشخیص میں 10 گنا اضافہ

اسلام آباد: بالغ افراد میں آٹزم کی تشخیص میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر برطانیہ اور سوئیڈن میں نوجوان خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق، یہ اضافہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران دیکھا گیا ہے، جو کہ ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق، یورپ میں آٹزم کی تشخیص کی شرح میں یہ اضافہ مختلف عوامل کی وجہ سے ہوا ہے، جن میں آگاہی میں اضافہ، تشخیصی طریقوں کی بہتری، اور سماجی قبولیت شامل ہیں۔ برطانیہ اور سوئیڈن میں نوجوان خواتین میں یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہے، جہاں آٹزم کی علامات کی شناخت میں بہتری آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اب لوگ آٹزم کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں اور اس کی علامات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، طبی ماہرین کی جانب سے تشخیصی معیارات میں تبدیلیاں بھی اس میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آٹزم کی تشخیص کے بعد مناسب مدد اور رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔

یہ تحقیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمیں آٹزم کے بارے میں مزید آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے شکار افراد کو بہتر مدد فراہم کی جا سکے۔