کراچی: کراچی میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو کے گھر پانی آتا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آپ کی حکومت 18 سال سے کیا کر رہی ہے؟
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ صوبے میں آنے والے ریونیو کا 76 فیصد کراچی کو ملتا ہے، مگر اس کے باوجود شہر کے باسیوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر پانی کی فراہمی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور شہریوں کی مشکلات کا ازالہ کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے پانی کی فراہمی کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو شہریوں کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔