اسلام آباد: گوگل کی نئی پالیسی نے طلباء کے لیے سرچ کی معطلی پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی جب کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طلباء کے لیے گوگل سرچ تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں طلباء کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
گوگل نے اس معاملے پر اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پالیسی تعلیمی اداروں کی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد طلباء کے لیے محفوظ اور تعلیمی مواد تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں طلباء کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
تعلیمی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ کی آزادانہ رسائی طلباء کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ جدید دور کی معلومات حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر سکتی ہیں اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے دور کر سکتی ہیں۔
اس معاملے پر مزید بحث جاری ہے اور گوگل کی جانب سے مزید وضاحتیں متوقع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، والدین اور طلباء نے اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔