اسلام آباد: آن لائن خریداری کے تنازعات پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ صارفین کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آن لائن خریداری کے معاملات، جیسے کہ سامان کی عدم ترسیل اور ادائیگی کے بعد آرڈر کی منسوخی، صارف عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ یہ فیصلہ ای کامرس کی بڑھتی ہوئی شکایات کے حجم کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ خریدار اپنے دعووں کو دوبارہ ترتیب دے کر صارف فورم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے نے آن لائن خریداری کے حوالے سے صارفین کے حقوق کی حفاظت کو مزید مستحکم کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اگر کوئی خریدار اپنی شکایت کو کسی اور شکل میں پیش کرتا ہے تو بھی اسے صارف عدالت میں ہی جانا ہوگا۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں ای کامرس کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی صارفین کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے صارفین کو یہ یقین دلایا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور انہیں انصاف ملے گا۔
یہ فیصلہ نہ صرف صارفین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ اس سے ای کامرس کی صنعت میں شفافیت اور اعتماد بھی بڑھے گا۔ اب خریدار اپنی خریداری کے تجربات کے بارے میں زیادہ مطمئن ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ان کے پاس قانونی راستے موجود ہیں۔