جعلی طبی سرٹیفکیٹ کی فروخت

جعلی طبی سرٹیفکیٹ کی فروخت: NCCIA نے ملزم کو گرفتار کر لیا

کراچی: جعلی طبی سرٹیفکیٹ کی فروخت کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک ریٹائرڈ سندھ حکومت کے اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزم مبینہ طور پر ملازمت کے متلاشیوں کو جعلی طبی فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کر رہا تھا۔ NCCIA کے اہلکاروں نے بتایا کہ ملزم کو راzzکباد ٹریننگ سینٹر میں گرفتار کیا گیا، جو چوکاندی قبرستان کے قریب واقع ہے، جہاں وہ بھرتی کے عمل کے دوران یہ غیر قانونی سرگرمی انجام دے رہا تھا۔

ملزم کی شناخت اور اس کی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، NCCIA نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرکاری بھرتی کے عمل کے دوران کئی امیدواروں نے اس کے خلاف شکایات درج کرائیں۔ ملزم پر الزام ہے کہ وہ جعلی سرٹیفکیٹ کے ذریعے امیدواروں کو ملازمت دلانے کا وعدہ کرتا تھا، جس کے بدلے میں وہ بڑی رقم وصول کرتا تھا۔

NCCIA کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس کے دیگر ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کچھ افراد ملازمت کے متلاشیوں کی امیدوں کا استحصال کرتے ہیں۔ NCCIA نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے افراد کی نشاندہی کریں جو اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

یہ کارروائی NCCIA کی جانب سے سائبر کرائم کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام کو محفوظ رکھنا اور جعلی دستاویزات کی فروخت کو روکنا ہے۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہے جو عوامی بھلائی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔