اسلام آباد: ایٹی سالات کے خلاف ثالثی کا معاملہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی فروخت سے متعلق 800 ملین ڈالر کی وصولی کے لیے زیر غور ہے۔ حکومت نے اس معاملے پر بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 2008 سے واجب الادا رقم اور اس کے موقع کی قیمت کے ساتھ ساتھ دیگر نقصانات کی وصولی کی جا سکے۔
<pیہ معاملہ منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں اٹھایا گیا، جہاں اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایٹی سالات کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ یہ رقم پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی وصولی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
<pحکومت کے ذرائع کے مطابق، ایٹی سالات نے پی ٹی سی ایل کی فروخت کے بعد سے اب تک واجب الادا رقم کی ادائیگی نہیں کی، جس کی وجہ سے پاکستان کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس معاملے کی پیچیدگیوں کے پیش نظر، حکومت نے بین الاقوامی ثالثی کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قانونی طور پر اپنی حق تلفی کا ازالہ کیا جا سکے۔
<pاس کے علاوہ، اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو ایٹی سالات کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ معاملہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، اور اس کی کامیابی سے ملک کی مالی حالت میں بہتری آ سکتی ہے۔