اسرائیلی عرب جماعتیں

اسرائیلی عرب جماعتیں اور نتن یاہو کا مستقل بحران

اسلام آباد: اسرائیلی عرب جماعتیں اور نتن یاہو کا مستقل بحران جاری ہے۔ بن یامین نتن یاہو ان دنوں اسرائیلی سیاسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حالیہ عام انتخابات میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تاکہ وہ حکومت بنا سکیں اور وزارت اعظمی کی کرسی پر ان ہی کا قبضہ رہے۔ آخری دنوں میں جب پوزیشن ڈگمگاتی نظر آئی تو وائٹ ہاؤس کا دروازہ کھٹکٹایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مدد میں تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ گویا غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام، لبنان میں مستقل حملے اور قبضہ، ایران پر جنگ مسلط کرنا، اقوام متحدہ کا نتن یاہو کی حکومت اور اسرائیلی فوجوں پر فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کو درست قرار دینا سب کچھ بالائے طاق رکھتے ہوئے ٹرمپ نے نتن یاہو کو ’عظیم دوست‘ اور ’جنگجو‘ قرار دیا۔ اسرائیلیوں کو پیغام دیا کہ نتن یاہو کو کامیاب کریں اور اسرائیل کا مستقبل صرف ان ہی کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔

ادھر انتخابات کی چرخی ایسی گھومی کہ نتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو حکومت کی تشکیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی عرب جماعتوں نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور نتن یاہو کی حکومت کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کیا۔ یہ جماعتیں نہ صرف اپنی سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ وہ اسرائیل کے اندر عرب شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

نتن یاہو کی حکومت کی تشکیل میں مشکلات اور عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے اسرائیلی سیاست میں ایک نئی تبدیلی کی نوید دی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا نتن یاہو اپنی حکومت کو مستحکم کر پائیں گے یا عرب جماعتیں مزید طاقتور ہو جائیں گی۔