اسرائیل کی سکیورٹی امداد

اسرائیل کی سکیورٹی امداد ختم کرنے کا ٹرمپ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: اسرائیل کی سکیورٹی امداد ختم کرنے کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے منگل کو کہا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ 10 سالہ سکیورٹی امداد کا معاہدہ ختم کر رہا ہے، جس کے تحت 2028 تک اس اتحادی ملک کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی جانی تھی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل کو بھی امداد ختم کرنے کے ان کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ اس اقدام پر راضی ہے۔ یہ امدادی معاہدہ 2019 میں شروع ہوا تھا، تاہم اس پر تین سال قبل ان کے پیش رو صدر براک اوباما کے دور میں دستخط کیے گئے تھے۔

امریکی ٹی وی پروگرام ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ‘اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔’ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے امداد ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ‘اسرائیل ہمارا سب سے اہم اتحادی ہے۔ ہم اسے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح نظرانداز نہیں کر سکتے۔’ یہ فیصلہ عالمی سطح پر اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس کے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔