اسلام آباد: ملک میں خراب نیٹ ورک اور ناگفتہ بہ ٹیلی کام سروسز پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور برہمی کا شکار ہو گیا۔ چیئرمین سید امین الحق کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ہینڈ سیٹ سگنلز کی کیفیت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
نیٹ ورک کی ناقص کیفیت پر قائمہ کمیٹی کے سخت سوالات
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے رکن احمد عتیق نے ٹیلی کام کمپنیوں کی غیر معیاری خدمات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صارفین سے بھاری ٹیکسز اور مہنگے پیکیجز کے نام پر اربوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹیلی کام سروسز کے معیار میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نہ صرف دور دراز علاقوں بلکہ ملک کے بڑے شہروں اور دارالحکومت میں بھی کال ڈراپ اور سگنلز غائب ہونے کے مسائل عام ہو چکے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے پی ٹی اے حکام سے سوال کیا کہ وہ ان کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے کیوں گریزاں ہیں۔
کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی احمد عتیق کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا پی ٹی اے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کے تعطل کے باعث نہ صرف عام شہریوں اور طلبہ کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملک کا کاروبار اور بالخصوص آئی ٹی کی برآمدات بھی شدید نقصان سے دوچار ہو رہی ہیں۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کمپنیوں کی جانب سے کیے جانے والے بلند و بانگ دعوے اور حقیقت میں فراہم کی جانے والی ٹیلی کام سروسز کے معیار کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔
پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز کو انتباہ
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے سروس کوالٹی چیک کرے اور ناقص کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرے۔ کمیٹی نے پی ٹی اے سے اگلے اجلاس میں ملک بھر میں ٹیلی کام سروسز کی موجودہ صورتحال، سروس کوالٹی کی تفصیلی رپورٹ اور ناقص سروس دینے والی کمپنیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا جامع بریفنگ چارٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوامی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگر ٹیلی کام آپریٹرز نے فوری طور پر اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر نہ بنایا اور سگنل کوالٹی کو درست نہ کیا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت تر اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کی جانب سے ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی شکایتوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔