آبنائے ہرمز کھولنے پر غور

آبنائے ہرمز کھولنے پر غور، ایران کا اہم اعلان

اسلام آباد: آبنائے ہرمز کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے، اگر امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کر لیتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے دو روزہ منصوبے پر غور جاری ہے۔

ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ یہ منصوبہ ایران کے نیک نیتی پر مبنی مؤقف کا ایک اور ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایرانی شرائط کو قبول کرتا ہے تو اس منصوبے پر عمل درآمد ممکن ہے۔

آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایران نے اس راستے کو بند کر رکھا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اتوار کو الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، لیکن وہ اس راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکہ ایرانی شرائط کو تسلیم کرے۔

یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس معاملے میں مداخلت کرے تاکہ عالمی تیل کی تجارت متاثر نہ ہو۔