اسلام آباد: امریکہ میں جاری سیاسی کشمکش اور انتخابی گہما گہمی کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن میں ممکنہ ناکامی کی صورت میں نئی حکمت عملی سامنے لے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کانگریس میں اکثریت کھو دیتی ہے تو وہ صدارتی اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے پاس کیے گئے تمام قوانین کو بلاک کر دیں گے اور ‘مسٹر ویٹو’ کا روپ دھار لیں گے۔
امریکی سیاست میں ممکنہ موڑ اور صدارتی اختیارات
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ نتائج کچھ بھی ہوں، وہ اپنے ایجنڈے پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مخالف جماعت ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو وہ ان کی طرف سے پیش کیے جانے والے ہر اس بل کو ویٹو کریں گے جو ان کی انتظامی پالیسیوں اور ملکی مفاد کے خلاف ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے یہ بیان اپنے حامیوں کو متحرک کرنے اور انتخابی مہم میں نئی روح پھونکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن کو اپنی سیاسی بقا اور اگلے صدارتی معرکے کا اہم ترین زینہ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورت حال میں اپوزیشن کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور انتخابی معرکہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
قانونی چیلنجز اور ایوان کی صورتحال
امریکی آئین کے تحت صدر کے پاس کانگریس کی طرف سے منظور کردہ کسی بھی قانون سازی کو ویٹو کرنے کا کامل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اگر ٹرمپ یہ قدم اٹھاتے ہیں تو امریکی قانون سازی کا عمل مکمل جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن کی کامیابی کو ملک کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی کی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ ان کی پالیسیاں ملک کو تقسیم کی طرف لے جا رہی ہیں۔
امریکی قانون ساز ادارے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں تمام نشستوں پر انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ مختلف انتخابی سرویز کے مطابق ووٹرز اس وقت معیشت، غیر معمولی مہنگائی، اور سرحدی تحفظ کو اہم ترین مسائل قرار دے رہے ہیں۔ صدر انہی نکات کو بنیاد بنا کر ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایوان میں اپنی عددی برتری برقرار رکھی جا سکے۔
عالمی سیاست پر اثرات
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ جارحانہ موقف ان کے انتخابی منشور کا بنیادی حصہ ہے، جس کا مقصد اپوزیشن پر پہلے سے نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن کے حوالے سے جو بیانات دے رہے ہیں، ان کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔
دنیا بھر کے معاشی اور سیاسی تجزیہ کاروں کی نظریں اس وقت امریکی انتخابات کے نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں کیونکہ یہ نتائج نہ صرف امریکہ کے داخلی امور بلکہ عالمی معاشی پالیسیوں اور دفاعی معاہداں پر بھی دور رس اثرات مرتب کریں گے۔